ایک ۶۵ سالہ کسان جو جنوبی پنجاب کے گاؤں میں رہتا ہے اور ایک ۶۵ سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم جس نے لاہور میں زندگی گزاری — دونوں کی جسمانی حالت دیکھیں تو فرق اکثر حیران کن ہوتا ہے۔ کسان کی کمر سیدھی، رنگ تازہ اور صبح اٹھ کر کھیت جانے کی ہمت باقی۔ شہری بزرگ کو شاید بلڈ پریشر، شوگر اور گھٹنوں کا درد کا مجموعہ ہو۔
یہ فرق محض قسمت یا جینیاتی نہیں — اس کے پیچھے ماحول، خوراک، حرکت اور آلودگی کا مجموعہ ہے۔
پاکستان میں شہری اور دیہاتی مردوں کی اوسط عمر کا فرق
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس اور متعدد عالمی صحت تنظیموں کے مطابق پاکستان میں دیہاتی مردوں کی اوسط عمر شہری مردوں سے ۳ تا ۵ سال زیادہ ہے — یہ تعداد اس وقت مزید بڑھ سکتی تھی اگر دیہاتی علاقوں میں طبی سہولیات شہروں جتنی ہوتیں۔
شہری ماحول میں دائمی کم سطح کی سوزش (chronic low-grade inflammation) جسم کو تیزی سے بوڑھا کرتی ہے۔ دیہاتی ماحول قدرتی طور پر اس عمل کو سست رکھتا ہے۔ — Lancet Regional Health South-East Asia، ۲۰۲۳
صاف ہوا: سب سے بڑا فرق
پاکستان کے دیہاتی علاقوں — خاص طور پر پوٹھوہار پٹھار، سرائیکی علاقہ اور بلوچستان کے میدانی حصوں — میں سالانہ اوسط PM2.5 کی سطح ۱۰ تا ۲۵ مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کے درمیان رہتی ہے۔ یہ شہروں کی آلودگی سے تین سے سات گنا کم ہے۔
صاف ہوا میں سانس لینے والے مردوں کے پھیپھڑے بڑھاپے تک اپنی زیادہ گنجائش برقرار رکھتے ہیں۔ اس کا براہ راست تعلق دل کی صحت سے ہے — پھیپھڑوں کی بہتر کارکردگی خون میں آکسیجن کی سطح اونچی رکھتی ہے، جو دل کو کم محنت کرنے دیتی ہے۔
جسمانی سرگرمی: بغیر جِم کے ورزش
پاکستان کے شہری مردوں میں جسمانی غیرفعالیت (physical inactivity) کی شرح ۶۵ تا ۷۰ فیصد ہے۔ وہ گاڑی سے دفتر، دفتر میں کرسی، شام کو واپس۔ اس کے برعکس دیہاتی مرد کی زندگی قدم اور پسینے پر چلتی ہے۔
- دیہاتی مرد اوسطاً روزانہ ۸،۰۰۰ تا ۱۲،۰۰۰ قدم چلتے ہیں — شہری مرد ۳،۰۰۰ سے بھی کم
- کھیتوں میں کام کرنا تمام پٹھوں کو متحرک رکھتا ہے — functional fitness کا سب سے قدرتی طریقہ
- جھکنا، اٹھانا، چلنا — ریڑھ کی ہڈی اور گھٹنوں کے لیگامنٹ مضبوط رہتے ہیں
ٹیسٹوسٹیرون اور جسمانی محنت
مستقل جسمانی محنت والے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح نمایاں طور پر بلند ہوتی ہے۔ یہ صرف جوانی میں نہیں — ۵۰ اور ۶۰ سال کی عمر میں بھی یہ فرق برقرار رہتا ہے۔ پاکستانی زرعی مردوں کا موازنہ جرمنی، جاپان اور برازیل کے زرعی مردوں سے کریں — سب میں یہ نمونہ ملتا جلتا ہے۔
خوراک: زمین سے براہ راست
دیہاتی مرد عموماً وہی کھاتا ہے جو قریب میں اگا ہو — کم processed، کم نمک، کم مصنوعی اجزاء۔ تازہ سبزیاں، موسمی پھل، دودھ اور لسی — یہ سب micronutrients کا بھرپور ذریعہ ہیں جو جسم کے سوزشی ردعمل کو قابو میں رکھتے ہیں۔
شہری غذا میں processed food، فاسٹ فوڈ، زیادہ چینی اور ٹرانس فیٹس کا تناسب زیادہ ہے۔ یہ سب metabolic syndrome کے ذمہ دار ہیں — جو بلڈ پریشر، شوگر اور دل کی بیماریوں کا مجموعہ ہے۔
نیند اور تناؤ: شہر میں رات کبھی خاموش نہیں
شور آلودگی (noise pollution) کا اثر اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ لاہور اور کراچی کے مرکزی علاقوں میں رات کا شور ۵۵ تا ۷۵ ڈیسیبل تک جاتا ہے — جبکہ محفوظ نیند کے لیے ۳۰ ڈیسیبل سے کم ضروری ہے۔
مستقل نیند کی خرابی cortisol (تناؤ کا ہارمون) بڑھاتی ہے، جو سیدھا ٹیسٹوسٹیرون کو دباتا ہے۔ دیہاتی مرد قدرتی طور پر سورج کے ساتھ اٹھتا اور ڈھلتا ہے — یہ circadian rhythm کا صحیح ترین نمونہ ہے۔
تناؤ کی نوعیت مختلف ہے
دیہاتی زندگی میں مالی اور موسمی تناؤ ہوتا ہے — لیکن وہ قلیل مدتی اور واضح ہوتا ہے۔ شہری زندگی میں تناؤ دائمی اور مبہم ہوتا ہے — ٹریفک، قرضے، ملازمت کا خوف، رشتوں کی پیچیدگیاں۔ دائمی تناؤ ہی وہ عنصر ہے جو عمر رسیدگی کو سب سے تیز کرتا ہے۔
کیا شہر میں رہنے والا مرد یہ فرق پاٹ سکتا ہے؟
مکمل طور پر نہیں — لیکن جزوی طور پر ہاں۔ کچھ اقدامات جو شہری ماحول میں بھی نتیجہ خیز ہیں:
- روزانہ ۳۰ منٹ باہر چلنا — صبح جب آلودگی کم ہو
- ہفتے میں ایک بار شہر سے باہر نکلنا — پارک، ندی، پہاڑ
- گھر میں پودے رکھنا — کچھ پودے VOC (volatile organic compounds) جذب کرتے ہیں
- processed food کی جگہ تازہ خوراک کا تناسب بڑھانا
- موبائل فون اور سوشل میڈیا کا رات کو استعمال کم کرنا — نیند بہتر ہوگی