پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کی ۲۰۲۳ کی رپورٹ کا ایک جملہ پڑھنے کے بعد کافی دیر تک ذہن پر رہتا ہے: ملک کے بڑے شہروں میں جانچے گئے پانی کے ۸۰ فیصد نمونے پینے کے قابل نہیں پائے گئے۔ مگر یہ پانی پیا جا رہا ہے — روزانہ، لاکھوں گھروں میں۔
اس مضمون میں اس آلودگی کا مردانہ جسم پر اثر دیکھا گیا ہے — خاص طور پر ہارمونز، گردوں اور تولیدی صحت پر۔
پاکستانی شہروں کے پانی میں کیا ہے؟
کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں پانی کے تجزیوں میں مختلف قسم کے آلودہ مادے ملے ہیں:
- سیسہ (Lead): پرانی پائپ لائنوں سے خارج ہوتا ہے، خاص طور پر کراچی اور لاہور کے پرانے علاقوں میں
- آرسینک: پنجاب کے زیر زمین پانی میں فطری طور پر پایا جاتا ہے، کئی علاقوں میں WHO کی حد سے پانچ گنا زیادہ
- نائٹریٹ: کھاد کے استعمال سے زمینی پانی میں شامل ہوتا ہے
- کولیفارم بیکٹیریا: سیوریج اور پینے کے پانی کی پائپ لائنوں کا اختلاط
- کرومیم اور کیڈمیم: فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے قریبی علاقوں کے پانی میں
پاکستان میں ہر سال تقریباً ۵۰،۰۰۰ بچے آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مرتے ہیں۔ بالغ مرد خاموشی سے اس آلودگی کے اثرات جھیلتے رہتے ہیں۔ — UNICEF Pakistan Water Report، ۲۰۲۲
سیسہ (Lead) اور مردانہ ہارمونز
سیسے کو endocrine disruptor کہا جاتا ہے — یعنی یہ جسم کے ہارمون سسٹم میں گڑبڑ ڈالتا ہے۔ خون میں سیسے کی سطح ۵ مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہونے پر ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کم ہونے لگتی ہے۔ پاکستان میں بعض مطالعوں میں کراچی کے مرکزی علاقوں میں بالغ مردوں کے خون میں سیسے کی اوسط سطح اس حد سے دوگنی پائی گئی۔
گردوں پر دیرپا اثر
آرسینک اور کیڈمیم دونوں گردوں کے proximal tubules کو نقصان پہنچاتے ہیں — جو خون سے فضلہ فلٹر کرنے والا بنیادی حصہ ہے۔ یہ نقصان آہستہ آہستہ ہوتا ہے، برسوں تک کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ جب Chronic Kidney Disease کی تشخیص ہوتی ہے، تب تک گردوں کی ۳۰ تا ۴۰ فیصد گنجائش ضائع ہو چکی ہوتی ہے۔
پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے مطابق CKD کے مریضوں کی تعداد میں گزشتہ دہائی میں ۶۰ فیصد اضافہ ہوا ہے — اور اس کا ایک اہم سبب آلودہ پانی قرار دیا جا رہا ہے۔
تولیدی صحت: سپرم کا معیار اور زرخیزی
آرسینک براہ راست DNA کو نقصان پہنچاتا ہے — بشمول سپرم DNA۔ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ آرسینک کے زیادہ خطرے میں رہنے والے مردوں میں:
- سپرم کی تعداد اوسطاً ۲۶ فیصد کم
- سپرم کی حرکت (motility) ۳۱ فیصد کمزور
- سپرم کی غیر معمولی شکل (morphology) کا تناسب زیادہ
نائٹریٹ اور اسپرم کا تعلق
پینے کے پانی میں نائٹریٹ جسم میں نائٹریٹ/نائٹرائٹ میں تبدیل ہوتا ہے اور آکسیڈیٹیو تناؤ پیدا کرتا ہے۔ یہ mitochondria کو نقصان پہنچاتا ہے — سپرم کی توانائی اسی سے آتی ہے۔ پنجاب کے زرعی علاقوں کے قریب رہنے والے مردوں میں یہ مسئلہ خاص طور پر دیکھا گیا ہے۔
کراچی، لاہور اور ملتان کا موازنہ
تین شہروں میں PCRWR کے جانچے گئے نمونوں کی بنیاد پر:
- کراچی: سب سے زیادہ سیسہ، بیکٹیریا کا تناسب سب سے زیادہ، خاص طور پر پرانے علاقوں (سدر، لیاری) میں
- لاہور: نائٹریٹ اور کلورین کا مسئلہ، ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پانی میں بھی کلیفارم کی موجودگی
- ملتان: فطری آرسینک سب سے زیادہ — زیر زمین پانی کے ذریعے
خود حفاظتی اقدامات
- گھر میں reverse osmosis (RO) فلٹر نصب کریں — یہ سیسہ، آرسینک اور بیشتر بھاری دھاتیں ہٹاتا ہے
- پانی ابال کر پینا بیکٹیریا ختم کرتا ہے مگر بھاری دھاتیں نہیں ہٹاتا
- گھر کی پرانی پائپ لائنیں بدلیں — خاص طور پر پرانے مکانات میں
- سال میں ایک بار خون میں سیسے اور آرسینک کا ٹیسٹ کروائیں
- گردوں کی صحت کے لیے سالانہ urine test ضروری ہے