نومبر ۲۰۲۴ میں جب لاہور کا فضائی معیار سوچک (AQI) ۷۰۰ سے تجاوز کر گیا، تو یہ صرف ایک تعداد نہیں تھی — یہ لاکھوں مردوں کے جسموں کے لیے ایک خاموش حملہ تھا۔ IQ Air کی عالمی درجہ بندی میں لاہور اور کراچی بار بار دنیا کے دس سب سے آلودہ شہروں میں شامل ہوتے ہیں۔ مگر اس آلودگی کے مردانہ جسم پر براہ راست اثرات پر بہت کم بات ہوتی ہے۔
PM2.5 کیا ہے اور یہ جسم میں کیسے داخل ہوتا ہے؟
PM2.5 وہ باریک ذرات ہیں جن کا قطر ۲.۵ مائیکرو میٹر سے کم ہوتا ہے — یعنی انسانی بال کی موٹائی سے تیس گنا چھوٹے۔ یہ ذرات ناک کے بالوں اور بلغم کی رکاوٹ کو آسانی سے عبور کر لیتے ہیں اور سیدھے پھیپھڑوں کے ہوائی تھیلوں (alveoli) تک پہنچتے ہیں۔ وہاں سے یہ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔
لاہور میں ۲۰۲۳ کے اعداد و شمار کے مطابق سالانہ اوسط PM2.5 کی سطح ۷۸ مائیکروگرام فی کیوبک میٹر رہی، جبکہ WHO کی محفوظ حد ۵ مائیکروگرام ہے۔ کراچی میں یہ اوسط ۴۲ مائیکروگرام تھی — بظاہر کم، لیکن پھر بھی محفوظ حد سے آٹھ گنا زیادہ۔
روزانہ ۱۰ مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کا اضافہ دل کے دورے کے خطرے میں ۸ تا ۱۸ فیصد اضافہ کرتا ہے۔ — New England Journal of Medicine، ۲۰۲۲
مردانہ ہارمونز پر اثر: ٹیسٹوسٹیرون میں کمی
۲۰۱۹ میں چین میں کی گئی ایک وسیع تحقیق — جس میں ۱۷۹۹ مرد شامل تھے — نے ظاہر کیا کہ فضائی آلودگی میں مسلسل رہنے والے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح ۳۵ تا ۴۴ فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ یہ کمی ایندو کرین (endocrine) نظام میں آکسیڈیٹیو تناؤ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
PM2.5 ذرات خون میں سوزش کے مادے بڑھاتے ہیں جو ٹیسٹیز (睾丸) تک آکسیجن اور غذائیت کی فراہمی کم کرتے ہیں۔ پاکستانی شہروں میں یہ خطرہ اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہاں ذرات کی آلودگی کے ساتھ ساتھ ہیوی میٹل آلودگی بھی زیادہ ہے۔
مردانہ زرخیزی پر اثر
کراچی کے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ۲۰۲۱ میں کی گئی ایک مطالعے میں شہر کے مرکزی علاقوں میں رہنے والے مردوں کے نطفے کا معیار دیہاتی علاقوں کے مردوں سے نمایاں طور پر کمزور پایا گیا۔ نطفے کی حرکت (motility) اور تعداد دونوں میں فرق واضح تھا۔
دل اور خون کی نالیوں پر اثر
پاکستان ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان میں دل کی بیماریوں کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس میں غذائی عادات کے علاوہ شہری فضائی آلودگی کا کردار اب تسلیم کیا جاتا ہے۔
PM2.5 خون کی باریک نالیوں میں سوزش پیدا کرتا ہے اور atherosclerosis (نالیوں کا سخت ہونا) کو تیز کرتا ہے۔ لاہور میں ایک تحقیق میں جن مردوں نے مرکزی شاہراؤں کے قریب ۱۰ سال گزارے، ان میں کورونری آرٹری ڈیزیز کا خطرہ ضلع حد سے باہر رہنے والوں سے ۲۳ فیصد زیادہ تھا۔
پھیپھڑوں کو مستقل نقصان
بچپن سے آلودہ فضا میں سانس لینے والے مردوں کے پھیپھڑوں کی گنجائش (lung capacity) شہر سے باہر بڑے ہونے والوں کے مقابلے میں اوسطاً ۱۲ تا ۱۵ فیصد کم ہوتی ہے۔ یہ فرق زندگی بھر برقرار رہتا ہے اور کھیل، کام اور جنسی صحت — سب کو متاثر کرتا ہے۔
کراچی بمقابل لاہور: آلودگی کے ذرائع مختلف ہیں
لاہور کی آلودگی کا بڑا ذریعہ پنجاب کی فصل کی باقیات جلانا، اینٹوں کے بھٹے اور موٹر گاڑیاں ہیں۔ نومبر اور دسمبر میں جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے، دھواں زمین کے قریب رہتا ہے اور AQI ریکارڈ سطح کو چھوتا ہے۔
کراچی میں آلودگی کا بنیادی سبب صنعتی اخراج، جہاز سازی اور ناقص ٹریفک نظام ہے۔ یہاں سمندری ہوا کچھ حد تک آلودگی کم کرتی ہے — لیکن ضلع کورنگی اور کورنگی انڈسٹریل زون کے قریبی علاقوں میں رہنے والے مردوں کو آلودگی کی خاص طور پر زیادہ خوراک ملتی ہے۔
روزمرہ تحفظ کے عملی طریقے
- N95 یا FFP2 ماسک استعمال کریں — سادہ سرجیکل ماسک PM2.5 کو نہیں روکتے
- صبح ۶ تا ۸ بجے باہر نکلنے سے گریز کریں — اس وقت PM2.5 سب سے زیادہ ہوتا ہے
- گھر میں HEPA فلٹر والا ہوا صاف کرنے والا آلہ استعمال کریں
- اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور خوراک — وٹامن C، E اور بیٹا کیروٹین — آکسیڈیٹیو نقصان کم کرتی ہے
- پھل اور سبزیاں دھو کر استعمال کریں — ان پر بھی آلودہ ذرات بیٹھتے ہیں